رباعی شمارهٔ 1932
Toggle stanza 1گر یک نفسی واقف اسرار شوی
11
گر یک نفسی واقف اسرار شوی
جانبازی را به جان خریدار شوی
22
تا مست خودی تو تا ابد تیرهستی
چون مست از او شوی تو هشیار شوی
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

