رباعی شمارهٔ 1931

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: یدی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
گر هیچ نشانه نیست اندر وادی
1

گر هیچ نشانه نیست اندر وادی

بسیار امیدهاست در نومیدی

2

ای دل مبر امید که در روضهٔ جان

خرما دهی، ار نیز درخت بیدی

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…