رباعی شمارهٔ 1931
Toggle stanza 1گر هیچ نشانه نیست اندر وادی
11
گر هیچ نشانه نیست اندر وادی
بسیار امیدهاست در نومیدی
22
ای دل مبر امید که در روضهٔ جان
خرما دهی، ار نیز درخت بیدی
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

