رباعی شمارهٔ 1859
Toggle stanza 1در دل نگذارمت که افگار شوی
11
در دل نگذارمت که افگار شوی
در دیده ندارمت که بس خار شوی
22
در جان کنمت جای نه در دیده و دل
تا در نفس بازپسین یار شوی
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

