رباعی شمارهٔ 1918

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ابودی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
گر درد دلم به نقش پیدا بودی
1

گر درد دلم به نقش پیدا بودی

هر ذره ز غم سیاه سیما بودی

2

ور راه به سوی گوهر ما بودی

هر قطره ز جوش همچو دریا بودی

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…