رباعی شمارهٔ 1918
Toggle stanza 1گر درد دلم به نقش پیدا بودی
11
گر درد دلم به نقش پیدا بودی
هر ذره ز غم سیاه سیما بودی
22
ور راه به سوی گوهر ما بودی
هر قطره ز جوش همچو دریا بودی
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

