رباعی شمارهٔ 1917

Toggle stanza 1
گر داد کنی درخور خود داد کنی
1

گر داد کنی درخور خود داد کنی

بیچاره کسی را که تواش یاد کنی

2

گفتی تو که بسیار بیادت کردم

من میدانم که چون مرا یاد کنی

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…