رباعی شمارهٔ 1917
Toggle stanza 1گر داد کنی درخور خود داد کنی
11
گر داد کنی درخور خود داد کنی
بیچاره کسی را که تواش یاد کنی
22
گفتی تو که بسیار بیادت کردم
من میدانم که چون مرا یاد کنی
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

