رباعی شمارهٔ 1919

Toggle stanza 1
گر سوزش سینه را به کس می‌داری
1

گر سوزش سینه را به کس می‌داری

وز مهر ضمیر پر هوس می‌داری

2

باید که چو نالهٔ تو آرام دلست

آن ناله قرین هر نفس می‌داری

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…