رباعی شمارهٔ 1919
Toggle stanza 1گر سوزش سینه را به کس میداری
11
گر سوزش سینه را به کس میداری
وز مهر ضمیر پر هوس میداری
22
باید که چو نالهٔ تو آرام دلست
آن ناله قرین هر نفس میداری
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

