شمارهٔ 102

Toggle stanza 1
با عاشقان نشین و همه عاشقی گزین
1

با عاشقان نشین و همه عاشقی گزین

با هر که نیست عاشق کم گوی و کم نشین

2

باشد که در وصال تو بینند روی دوست

تو نیز در میانهٔ ایشان نه ای، ببین

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…