رباعی شمارهٔ 116
Toggle stanza 1در علم و عمل چو ذوفنون آید مرد
11
در علم و عمل چو ذوفنون آید مرد
آرایش بیرون و درون آید مرد
22
از معرکه بی زخم برون آید مرد
وز پردهٔ کار غرق خون آید مرد
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

