رباعی شمارهٔ 116

شاعر: عرفی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ونایدمرد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
در علم و عمل چو ذوفنون آید مرد
1

در علم و عمل چو ذوفنون آید مرد

آرایش بیرون و درون آید مرد

2

از معرکه بی زخم برون آید مرد

وز پردهٔ کار غرق خون آید مرد

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…