رباعی شمارهٔ 115

Toggle stanza 1
ای آن که ز درد رسته ای، شرمت باد
1

ای آن که ز درد رسته ای، شرمت باد

فارغ ز بلا نشسته ای، شرمت باد

2

تو سنگ دلی و تهمت بی اثری

بر جلوهٔ حسن بسته ای، شرمت باد

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…