رباعی شمارهٔ 135
Toggle stanza 1منگر تو بدانکه ذوفنون آید مرد
11
منگر تو بدانکه ذوفنون آید مرد
در عهد وفا نگر که چون آید مرد
22
از عهدهٔ عهد اگر برون آید مرد
از هر چه گمان بری فزون آید مرد
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

