Toggle stanza 1
ز ننگ عافیت بازم دل شرمنده می سوزد
1

ز ننگ عافیت بازم دل شرمنده می سوزد

نه از دل گریه می جوشد، نه بر لب خنده می سوزد

2

چراغ روشن است ازعشق او درمجمع هستی

کز آواز فروغش می گدازد بنده، می سوزد

3

نه تنها عشق سوزد، ساکنان ملک هستی را

در این توفان آتش، رفته و آینده می سوزد

4

مکن بر عزت خود تکیه، عرفی، شرط عشق است این

که اکثر آبروی گوهر ارزنده می سوزد

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…