غزل شمارهٔ 266

Toggle stanza 1
اهل همت لب از دعا بستند
1

اهل همت لب از دعا بستند

کمر خدمت رضا بستند

2

گرد آیینه بود جاه جلال

باز آئین غم کجا بستند

3

مژده ریزند بر سر و دستار

کز گل فتنه دسته ها بستند

4

رفت هنگام بار سوختگان

داغ ها بر لب صبا بستند

5

ما کلید بهشت بشکستیم

در دوزخ به روی ما بستند

6

به عدم کی روان شوی عرفی

رو که دروازهٔ فنا بستند

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…