Toggle stanza 1
آخر بگو، ای نازنین، ناز تو تا کی همچنین؟
1

آخر بگو، ای نازنین، ناز تو تا کی همچنین؟

پوشیده در جان میخلد راز تو تا کی همچنین؟

2

حسنت بلا، نازت جفا، باری برآمد جان من

حسن تو تا کی همچنین، ناز تو تا کی همچنین؟

3

نبود نوای درد خوش، نشنید چون نالیدنم

خندید چون چنگ نگون ساز تو تا کی همچنین؟

4

چشم شکار انداز تو بازی ست کو مردم خورد

عالم ز مردم شد تهی، باز تو تا کی همچنین؟

5

خسرو لب خود می گزی، بهر لبش چون نیست آن

بیهوده بر لب‌های خود گاز تو تا کی همچنین

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…