Toggle stanza 1
ترک من، سر مکش ز پرده خویش
1

ترک من، سر مکش ز پرده خویش

درکش آخر عنان زرده خویش

2

در می انداز ناتوانی را

با فراق هزار مرده خویش

3

نظری کردم و چنان گشتم

که پشیمان شدم ز کرده خویش

4

مطرب از ناله ام چنان شد مست

که فراموش کرد پرده خویش

5

ساقیا، خون من بخور به تمام

می بده، لیک نیم خورده خویش

6

به غلامی نیرزدت خسرو

تو فزون کن بهای پرده خویش

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…