Toggle stanza 1
تا شد ز مطلع غیب خورشید حسن طالع
1

تا شد ز مطلع غیب خورشید حسن طالع

عشاق بینوا را مسعود گشت طالع

2

ما از جهان ملولیم از خویش و غیر فارغ

گشته به نیم جرعه در کنج دیر قانع

3

ساقی، بیار جامی کز خود رهم زمانی

مگذار تا گذارم بی باده عمر ضایع

4

جز جام تو ننوشند عشاق در خرابات

جز نام تو نگویند زهاد در صوامع

5

چون قیل و قال هر کس با مست در نگیرد

در حق ما نباشد پند فقیه نافع

6

حال درون پر خون از خلق چون بپوشم

چون کرد پیش مردم اشکم بیان واقع

7

بگذر ز خویش خسرو، گر وصل یار جویی

زان رو که نیست جز تو در راه وصل مانع

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…