غزل شمارهٔ 983

شاعر: امیرخسرو دهلوی

وزن: فعلاتن مفاعلن فعلن (خفیف مسدس مخبون)

قافیہ: رگردد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

Toggle stanza 1
دیده با تو چو هم نظر گردد
1

دیده با تو چو هم نظر گردد

ناوک فتنه را سپر گردد

2

هر که از درد عشق بی خبر است

چون ترا دید با خبر گردد

3

زلف روزی که بر رخت گذرد

سایه از چاشت بیشتر گردد

4

تا خیالت درون خانه بود

صبر می کن، برون در گردد

5

کیمیایی ست آتش عشقت

که ازان روی بنده زر گردد

6

قصه من دراز شد ز غمت

ور بگویم، درازتر گردد

7

می خورم غم به یادت، اما زهر

کی به یاد شکرشکر گردد

8

من ز برگشتن تو می میرم

زان نمیرم که عمر برگردد

9

خسرو از کاهش تو شد نی خشک

بوسه ای ده که نیشکر گردد

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…