Toggle stanza 1
وفا در نیکوان چندان نباشد
1

وفا در نیکوان چندان نباشد

ترا خود هیچ بویی زان نباشد

2

مرا گویید منگر در جوانان

که خوبی جز بلای جان نباشد

3

نظر در روی تو خود کرده ام من

بلی، خود کرده را درمان نباشد

4

دلم بر بت پرستی خو گرفته ست

مسلمان بودنم امکان نباشد

5

مرا بهر تو کافر می کند خلق

خود اهل عشق را ایمان نباشد

6

مرو از سینه بیرون، اگر چه دانم

که یوسف را سر زندان نباشد

7

ز هجران سوخت خسرو، وه که در عشق

چه نیکو باشد، ار هجران نباشد

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…