Toggle stanza 1
به ملک فتنه تا زلفش علم شد
1

به ملک فتنه تا زلفش علم شد

ز جانها عارض او را حشم شد

2

فرشته گر گناهی می نوشتی

رخت چون دید مرفوع القلم شد

3

ز خاموشی بخواهی کشت ما را

دو لعلت بهر جان ما بهم شد

4

نشین یکدم که یابد نیم عمری

گرفتاری که عمر او دو دم شد

5

نمی دیدی به من، ار ننگ دیدی

مرنج ار زین قدر قدر تو کم شد

6

کسی بدروزی خسرو شناسد

که او درمانده شبهای غم شد

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…