Toggle stanza 1
فلک با کس دل یکتا ندارد
1

فلک با کس دل یکتا ندارد

ز صد دیده یکی بینا ندارد

2

درخت دهر سر تا پای خارا است

تو گل جویی و او اصلا ندارد

3

جهان از مردمی ها مردمان را

نویدی می دهد، اما ندارد

4

کسی از هفت بام چرخ بگذشت

که باغ هشت در مأموا ندارد

5

کسی کاین جا مربع می نشیند

در ایوان مثمن جا ندارد

6

چرا خسرو، نیندیشی تو امروز؟

از آن فردا که پس فردا ندارد

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…