Toggle stanza 1
تا عشق توام زبون گرفته ست
1

تا عشق توام زبون گرفته ست

دل قاعده جنون گرفته ست

2

چون لاله مرا ز داغ عشقت

آتش به همه درون گرفته ست

3

گل را ز بنفشه نیست آن حسن

کز خط رخ تو کنون گرفته ست

4

از شحنه روزگار ما را

لعل تو خطی به خون گرفته ست

5

در دور لب تو ساقی بزم

دست از می لاله گون گرفته ست

6

زانسان که بود سکون الف را

در دل قد تو سکون گرفته ست

7

تا روی تو خط فزود جامی

از مهر و مهش فزون گرفته ست

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…