غزل شمارهٔ 274
Toggle stanza 1هست خالی ز سبحه دست خواص
11
هست خالی ز سبحه دست خواص
همچو سبحه ز گوهر اخلاص
22
غرقه در گریه از برای توام
بهر در غوطه می خورد غواص
33
جنبش هر کسی ز جای وی است
وجد صوفی نیاید از رقاص
44
قصه تو نخواهم از دگران
آری القاص لایحب القاص
55
چند جویی خواص خاص از عام
هر براهیم کی شود خواص
66
کرد صوفی به پاکی تجرید
ریش خود را ز دست شانه خلاص
77
جامی از عشق جو قبول سخن
نه ز لفظ بدیع و معنی خاص
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

