Toggle stanza 1
جوهر وجود عشق بود مابقی غرض
1

جوهر وجود عشق بود مابقی غرض

ان فاتکم فلیس لما فات من عوض

2

شد عمرها که عهد وفا بسته ام به عشق

عمری مضی و عهدی بالعشق ما انتقض

3

از غیر عشق عض بصر کن که عاقبت

عض انامل است مکافات ترک غض

4

با اهل بیت عشق و موالات رفض نیست

ور خود بفرض هست فطوبی لمن رفض

5

ز افسردگی جهل و کسل خشک مانده ای

جز سوز عشق نیست مداوای این مرض

6

زاهد به زیر سایه اعمال خویش خفت

انهضته بخالص نصح فما انتهض

7

جامی چو حمل بار محبت به صدق کرد

سهل است حسود کند حمل بر غرض

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…