غزل شمارهٔ 943

Toggle stanza 1
گهی در دل گهی در دیده باشی
1

گهی در دل گهی در دیده باشی

دلم را خون کنی وز دیده پاشی

2

ز لوح خاطرم نقش بتان را

تراشیدی خوشا این بت تراشی

3

خریدار تو زان رو شد جهانی

که چون یوسف به خوبی گشته فاشی

4

چو چنگ از دست تو زان می خروشم

که چون چنگم رگ جان می خراشی

5

چه می پرسی که جامی عاشق کیست

چه گویم من تو هم دانسته باشی

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…