Toggle stanza 1
باشد از شوب ریا مشرب رندان صافی
1

باشد از شوب ریا مشرب رندان صافی

عیب ایشان مکن ای خواجه ز بی انصافی

2

لاف کم زن که نه از شیوه مردان خداست

ای که از شیوه مردان خدا می لافی

3

تا ز اوصاف من و ما نشود صوفی صاف

اهل صفوت نکنندش به صفا وصافی

4

لب فروبند که جز رزق تو نازل نشود

گر به فریاد و فغان سقف فلک بشکافی

5

امتیاز سره و قلب جهان دشوار است

خاصه وقتی که به قلاب رسد صرافی

6

جامی افشا چه کنی در غزل اسرار ازل

کی بود نظم قوافی به حقایق وافی

7

بر تن حجله نشینان معانی تنگ است

هر شعاری که تو از شعر عبارت بافی

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…