غزل شمارهٔ 225

Toggle stanza 1
دلم از خم صفا جام مصفا زده است
1

دلم از خم صفا جام مصفا زده است

همتم سنگ بر این طارم مینا زده است

2

نقد عرفان ز مقلد مطلب کان مسکین

دست در آرزوی نسیه فردا زده است

3

زر و سیمی که بر آن خواجه نظر دوخته است

مشت خاکی ست که در دیده بینا زده است

4

برفشان جیب که خار قدم تجرید است

نیم سوزن که سر از جیب مسیحا زده است

5

دوست را باش و بساط عمل خود طی کن

بس مصلی که رهش نقش مصلا زده است

6

بی غباری به حرم کعبه روی پی برده ست

کآب راه حرم از آبله پا زده است

7

گرچه تنگ است بسی خانه صورت جامی

کم کسی خیمه ازین خانه به صحرا زده است

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…