بخش 7 - الحكایة و التمثیل

Toggle stanza 1
بر پلی میشد نظام الملک شاد
1

بر پلی میشد نظام الملک شاد

چشم او ناگه بزیر پل فتاد

2

بیدلی در سایهٔ پل رفته بود

فارغ از هر دو جهان خوش خفته بود

3

گفت اگر عاقل اگر آشفتهٔ

هرچه هستی فارغ و خوش خفتهٔ

4

بیدل دیوانه گفتش ای نظام

کی دو تیغ آید بهم در یک نیام

5

ملک دنیا هست دین میبایدت

آن همه داری و این میبایدت

6

گر ترا دین باید از دنیا مناز

هردو با هم راست ناید کژ مباز

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…