شمارهٔ 14
Toggle stanza 1در فقر، سیاه پوشیم اولیتر
11
در فقر، سیاه پوشیم اولیتر
صافی دل و دُرد نوشیم اولیتر
22
چون صبح دمی اگر برآرم از جان
رسواگردم خموشیم اولیتر
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

