شمارهٔ 15
Toggle stanza 1در عشق تو از بس که خروش آوردیم
11
در عشق تو از بس که خروش آوردیم
دریای سپهر را به جوش آوردیم
22
چون با تو خروش و جوش ما درنگرفت
رفتیم و دل و زبان خموش آوردیم
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

