شمارهٔ 13
Toggle stanza 1چون لوح دل از دو کون بستردم من
11
چون لوح دل از دو کون بستردم من
دو کون به زیر پای بسپردم من
22
ای بس سخنی را که سرم کردی گوی
آمد به گلویم و فرو بردم من
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

