شمارهٔ 64
Toggle stanza 1آن دم که چو بحر کل شود ذات مرا
11
آن دم که چو بحر کل شود ذات مرا
روزن گردد جملهٔ ذرات مرا
22
زان میسوزم، چو شمع، تا در ره عشق
یک وقت شود جملهٔ اوقات مرا
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

