شمارهٔ 47
Toggle stanza 1ما هر دو جهان زیر قدم آوردیم
11
ما هر دو جهان زیر قدم آوردیم
بر قبهٔ افلاک علم آوردیم
22
چون درد ترا کم آمد آمد درمان
کلّی خود را زهیچ کم آوردیم
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

