Toggle stanza 1
ما هر دو جهان زیر قدم آوردیم
1

ما هر دو جهان زیر قدم آوردیم

بر قبهٔ افلاک علم آوردیم

2

چون درد ترا کم آمد آمد درمان

کلّی خود را زهیچ کم آوردیم

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…