Toggle stanza 1
گر ما همگی خویش چون ذرّه کنیم
1

گر ما همگی خویش چون ذرّه کنیم

خود را به وجود ذرّهای غرّه کنیم

2

ای قافله سالارِ عدم طبل بزن

تا بادیهٔ وجود را عَبْره کنیم

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…