شمارهٔ 48
Toggle stanza 1گر ما همگی خویش چون ذرّه کنیم
11
گر ما همگی خویش چون ذرّه کنیم
خود را به وجود ذرّهای غرّه کنیم
22
ای قافله سالارِ عدم طبل بزن
تا بادیهٔ وجود را عَبْره کنیم
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

