Toggle stanza 1
در عشق تو زاری وندم آوردیم
1

در عشق تو زاری وندم آوردیم

بر قُبّهٔ افلاک علم آوردیم

2

وآخر چو وجود سدِّ دولت دیدیم

روی از همه عالم به عدم آوردیم

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…