شمارهٔ 46
Toggle stanza 1در عشق تو زاری وندم آوردیم
11
در عشق تو زاری وندم آوردیم
بر قُبّهٔ افلاک علم آوردیم
22
وآخر چو وجود سدِّ دولت دیدیم
روی از همه عالم به عدم آوردیم
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

