Toggle stanza 1
در امت تو اگر مطیعی نبود،
1

در امت تو اگر مطیعی نبود،

بر پشتی چون توئی بدیعی نبود

2

شاید که ز بیم معصیت خون گرید

آن را که بحق چون تو شفیعی نبود

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…