Toggle stanza 1
ای رحمت عالمین، رحمت از تست
1

ای رحمت عالمین، رحمت از تست

عصیان از ما، چنان که عصمت از تست،

2

لطفی بکن و روی مگردان از ما

چون پشتی عاصیان امت از تست

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…