شمارهٔ 16
Toggle stanza 1رفتی تو و خون جگریست از تو مرا
11
رفتی تو و خون جگریست از تو مرا
جان بر لب و دل پر خطریست از تو مرا
22
یک موی ندارم که نه آغشتهٔ تست
بر هر مویی نوحه گریست از تو مرا
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

