شمارهٔ 17
Toggle stanza 1ای نور رخت خاک سیه بگرفته
11
ای نور رخت خاک سیه بگرفته
وز مرگ توآفتاب و مَه بگرفته
22
وین عالم چون عجوزهٔ فانی را
از آرزوی تو دردِ زَه بگرفته
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

