(5) حکایت ایّوب علیه السلام

Toggle stanza 1
چنین نقل است که‌ایّوب پیمبر
1

چنین نقل است که‌ایّوب پیمبر

که عمری در بلایی بود مضطر

2

هم از گرگان‌ِ دنیا رنج دیده

هم از کِرمان بسی سختی کشیده

3

درآمد جبرئیل و گفت ای پاک

چه می‌باشی بنال از جان‌ِ غمناک

4

که گر باشد ترا هر دم هلاکی

ازان حق را نباشد هیچ باکی

5

اگر عمری صبوری پیش آری

نهٔ حق گر صبوری بیش داری

6

چنان تقدیر گردان است پرگار

ز وَی کس نیست یک نقطه خبردار

7

نه دل از دل خبر دارد نه جان هم

ولی کاری روان بی این و آن هم

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…