رموز بیخودی
رموز بیخودی
Dibacha (Rumooz-e-Bekhudi)
بخش 1پیشکش به حضور ملت اسلامیه
پیش کش بحضور ملتِ اسلامیہ
بخش 2تمهید : در معنی ربط فرد و ملت
فرد و ملت کا ربط
بخش 3در معنی اینکه ملت از اختلاط افراد پیدا میشود و تکمیل تربیت او از نبوت است
ملت اختلاطِ افراد سے بنتی اور اس کی تکمیل تربیت نبوت سے ہوتی ہے
بخش 4ارکان اساسی ملیهٔ اسلامیه رکن اول: توحید
رکن اول: توحید
بخش 5در معنی اینکه یأس و حزن و خوف ام الخبائث است و قاطع حیات و توحید ازالهٔ این امراض خبیثه می کند
یاس و حزن اور خوف ام الخباءث اور قاطع حیات ہیں ان امراض خبیثہ کا ازالہ (صرف) توحید سے ہو سکتا ہے
بخش 6محاورهٔ تیر و شمشیر
تیر کی شمشیر سے گفتگو
بخش 7حکایت شیر و شهنشاه عالمگیررحمة الله علیه
شیر اور شہنشاہ عالمگیر بارے حکایت
بخش 8رکن دوم: رسالت
رکن دوم: رسالت
بخش 9در معنی اینکه مقصود رسالت محمدیه تشکیل و تأسیس حریت و مساوات و اخوت بنی نوع آدم است
بیان مقصود رسالتِ محمدیہ جو تشکیل و تاسیس حریت اور مساوات و اخوتِ بنی آدم کی بنیاد ہے
بخش 10حکایت بوعبید و جابان در معنی اخوت اسلامیه
بوعبید اور جابان کی حکایت اخوت اسلامیہ کی روشنی میں
بخش 11حکایت سلطان مراد و معمار در معنی مساوات اسلامیه
سلطان مراد اور معمار کی حکایت مساواتِ اسلامیہ کی روشنی میں
بخش 12در معنی حریت اسلامیه و سر حادثهٔ کربلا
بیان حریتِ اسلامیہ اور سرِ حادثہَ کربلا
بخش 13در معنی اینکه چون ملت محمدیه مؤسس بر توحید و رسالت است پس نهایت مکانی ندارد
چونکہ ملتِ محمدیہ کی بنیاد توحید و رسالت پر ہے اس لیے حدود مکانی سے بے نیاز ہے
بخش 14در معنی اینکه وطن اساس ملت نیست
وطن اساسِ ملت نہیں ہے
بخش 15در معنی اینکه ملت محمدیه نهایت زمانی هم ندارد، که دوام این ملت شریفه موعود است
ملت محمدیہ بربنائے وعدہ دوام حدود زمانے سے بھی آزاد ہے
بخش 16در معنی اینکه نظام ملت غیر از آئین صورت نبندد و آئین ملت محمدیه قرآن است
نظامِ ملت آئین کے بغیر صورت پزیر نہیں ہوتا ۔ ملت محمدیہ کا آئین قرآن ہے
بخش 17در معنی اینکه در زمانه انحطاط تقلید از اجتهاد اولی تر است
زمانہ انحطاط میں تقلید اجتہاد سے بہتر ہے
بخش 18در معنی اینکه پختگی سیرت ملیه از اتباع آئین الهیه است
سیرت ملّی کی پختگی آئینِ الہٰیہ کے اتباع سے ہے
بخش 19در معنی اینکه حسن سیرت ملیه از تأدب به آداب محمدیه است
حسنِ سیرت ملیہ کا بیان جو آداب محمدیہ سے درسِ ادب کے حصول میں مضمر ہے
بخش 20در معنی اینکه حیات ملیه مرکز محسوس میخواهد و مرکز ملت اسلامیه بیت الحرام است
بیان حیات ملیہ جسے مرکز محسوس کی ضرورت ہے اسی کو بیت الحرام کہتے ہیں
بخش 21در معنی اینکه جمعیت حقیقی از محکم گرفتن نصب العین ملیه است و نصب العین امت محمدیه حفظ و نشر توحید است
حقیقی جمیعت ملی نصب العین پر مضبوط گرفت کا نام ہےاور امت محمدیہ کا نصب العین توحید کی حفاظت و اشاعت ہے
بخش 22در معنی اینکه توسیع حیات ملیه از تسخیر قوای نظام عالم است
توسیعِ حیاتِ ملی نظام عالم کی تسخیر قویٰ کا نام ہے
بخش 23در معنی اینکه کمال حیات ملیه این است که ملت مثل فرد احساس خودی پیدا کند و تولید و تکمیل این احساس از ضبط روایات ملیه ممکن گردد
حیات ملیہ کا کمال یہ ہے کہ ملت فرد کی طرح احساس خودی پیدا کرے اور اس احساس کی تولید و تکمیل ملی روایات کے ضبط ہی سے ممکن ہے
بخش 24در معنی اینکه بقای نوع از امومت است و حفظ و احترام امومت اسلام است
نوع انسانی کی بقا امومت (عورت کی مامتا )سے ہے اور امومت کا حفظ و احترام اسلام ہے
بخش 25در معنی اینکه سیدة النساء فاطمة الزهراء اسوه کامله ایست برای نساء اسلام
مسلمان عورتوں کے لیے سیدۃ النسا فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اسوہَ کاملہ ہیں
بخش 26خطاب به مخدرات اسلام
خطاب بہ مخدرات (خواتین) اسلام
بخش 27قل هوالله احد
در تفسیر سورہَ اخلاص مثنوی کے مطالب کا خلاصہ سورہ اخلاص کی روشنی میں قل ھو اللہ احد
بخش 28الله الصمد
اللہ الصمد
بخش 29لم یلد و لم یولد
لم یلد و لم یولد
بخش 30ولم یکن له کفواً احد
ولم یکن لہُ کفواً احد
بخش 31عرض حال مصنف بحضور رحمة للعالمین
عرض حال مصنف بحضور رحمتہ للعالمین
ترجمہ
اردو مترجمین
ترجمہ
انگریزی مترجمین
آڈیو
صداکاران
صنف
اصناف
وزن

