تراجم
میاں عبدالرشید کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب رموز بیخودی
یہ صفحہ صرف میاں عبدالرشید کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
تراجم والی نظمیں
رموز بیخودی
بخش 1پیشکش به حضور ملت اسلامیه
ملّت اسلامیہ کے حضور میں پیشکش۔
بخش 2تمهید : در معنی ربط فرد و ملت
تمہید: ربط فرد و ملّت
بخش 3در معنی اینکه ملت از اختلاط افراد پیدا میشود و تکمیل تربیت او از نبوت است
اس مطلب کی وضاحت کے لیے کہ ملّت افراد کے اختلاط سے وجود میں آتی ہے اور اس کی تربیّت کی تکمیل نبوّت سے ہوتی ہے۔
بخش 4ارکان اساسی ملیهٔ اسلامیه رکن اول: توحید
ملّت مسلمہ کے بنیادی ارکان پہلا رکن: توحید
بخش 5در معنی اینکه یأس و حزن و خوف ام الخبائث است و قاطع حیات و توحید ازالهٔ این امراض خبیثه می کند
اس مضمون کی وضاحت کہ نا امیدی غم اور ڈر سب برائیوں کی جڑ ہیں اور رشتۂ حیات منقطع کرنے والی ہیں ، اور توحید ان امراض خبیثہ کا ازالہ کرتی ہے۔
بخش 6محاورهٔ تیر و شمشیر
تیر و شمشیر کی گفتگو
بخش 7حکایت شیر و شهنشاه عالمگیررحمة الله علیه
شہنشاہ عالمگیرؒ اور شیر کی کہانی۔
بخش 8رکن دوم: رسالت
رکن دوم: رسالت
بخش 9در معنی اینکه مقصود رسالت محمدیه تشکیل و تأسیس حریت و مساوات و اخوت بنی نوع آدم است
اس مضمون کی وضاحت میں کہ رسالت محمدیہ کا مقصود بنی آدم کی آزادی اور اخوّت کی تشکیل و تاسیس ہے۔
بخش 10حکایت بوعبید و جابان در معنی اخوت اسلامیه
بو عبیدؒ اور جابان کی حکایت اخوت اسلامیہ کے بارے میں۔
بخش 11حکایت سلطان مراد و معمار در معنی مساوات اسلامیه
سلطان مراد اور معمار کی حکایت مساوات اسلامیہ کے بارے میں۔
بخش 12در معنی حریت اسلامیه و سر حادثهٔ کربلا
اسلامی حریت اور حادثۂ کربلا کے راز کی وضاحت میں۔
بخش 13در معنی اینکه چون ملت محمدیه مؤسس بر توحید و رسالت است پس نهایت مکانی ندارد
اس مضمون کی وضاحت میں کہ چونکہ ملّت محمدیہ ﷺ کی بنیاد توحید و رسالت پر ہے اس لیے یہ مکان کی حدود سے ماورا ہے۔
بخش 14در معنی اینکه وطن اساس ملت نیست
اس مضمون کی وضاحت میں کہ ملّت اسلامیہ کی بنیاد وطن نہیں۔
بخش 15در معنی اینکه ملت محمدیه نهایت زمانی هم ندارد، که دوام این ملت شریفه موعود است
اس مضمون کی وضاحت میں کہ ملّت محمدیہ ﷺ حدود زماں سے آزاد ہے کہ اس ملّت شریفہ کا اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے۔
بخش 16در معنی اینکه نظام ملت غیر از آئین صورت نبندد و آئین ملت محمدیه قرآن است
اس مضمون کی وضاحت میں کہ ملت کا نظام آئین کے بغیر قائم نہیں ہو سکتااور ملت محمدیہ کا آئین قرآن پاک ہے۔
بخش 17در معنی اینکه در زمانه انحطاط تقلید از اجتهاد اولی تر است
اس مضمون کی وضاحت میں کہ انحطاط کے دور میں تقلید اجتحاد سے بہتر ہے۔
بخش 18در معنی اینکه پختگی سیرت ملیه از اتباع آئین الهیه است
اس مضمون کی وضاحت میں کہ کردار کی پختگی شریعت کے اتباع سے ہے۔
بخش 19در معنی اینکه حسن سیرت ملیه از تأدب به آداب محمدیه است
اس مضمون کی وضاحت میں کہ ملت کا حسن سیرت جناب رسول ﷺ کے آداب اختیار کرنے سے ہے۔
بخش 20در معنی اینکه حیات ملیه مرکز محسوس میخواهد و مرکز ملت اسلامیه بیت الحرام است
اس مضمون کی وضاحت میں کہ ملت کی زندگی مرکز محسوس چاہتی ہے اور ملت اسلامیہ کا مرکز بیت اللہ ہے۔
بخش 21در معنی اینکه جمعیت حقیقی از محکم گرفتن نصب العین ملیه است و نصب العین امت محمدیه حفظ و نشر توحید است
اس مضمون کی وضاحت میں کہ ملت کی اصل جمیعت نصب العین کو مضبوطی سے تھام لینے میں ہے اور امت محمدیہ ﷺ کا نصب ا لعین توحید کی حفاظت اور اشاعت ہے۔
بخش 22در معنی اینکه توسیع حیات ملیه از تسخیر قوای نظام عالم است
اس مضمون کی وضاحت میں کہ ملّی زندگی کی توسیع عناصر فطرت کی تسخیر سے ہے۔
بخش 23در معنی اینکه کمال حیات ملیه این است که ملت مثل فرد احساس خودی پیدا کند و تولید و تکمیل این احساس از ضبط روایات ملیه ممکن گردد
اس مضمون کی وضاحت میں کہ ملّی زندگی کا کمال یہ ہے کہ ملّت بھی فرد کی مثل احساس خودی پیدا کرے اور اس احساس کا پیدا ہونا اور تکمیل پانا ؛ ملّی روایات کی حفاظت سے ممکن ہے۔
بخش 24در معنی اینکه بقای نوع از امومت است و حفظ و احترام امومت اسلام است
اس مضمون کی وضاحت میں کہ نسل انسانی کی بقا امومت سے ہے اور امومت کی حفاظت اور احترام (عین) اسلام ہے۔
بخش 25در معنی اینکه سیدة النساء فاطمة الزهراء اسوه کامله ایست برای نساء اسلام
اس مضمون کی وضاحت میں کہ سیدۃ النساء فاطمة الزہراءؓ مسلم خواتین کے لیے اسوہ کا مسلہ ہیں۔
بخش 26خطاب به مخدرات اسلام
خواتین (پردہ نشینان ) اسلام سے خطاب۔
بخش 27قل هوالله احد
مطالب مثنوی کا خلاصہ سورہ اخلاص کی تفسیر کی صورت میں : قل ہواللہ احد
بخش 28الله الصمد
بخش 29لم یلد و لم یولد
بخش 30ولم یکن له کفواً احد
بخش 31عرض حال مصنف بحضور رحمة للعالمین
عرض حال مصنّف بحضور رحمۃ للعالمین ﷺ۔

