بخش 12 - در معنی حریت اسلامیه و سر حادثهٔ کربلا

بیان حریتِ اسلامیہ اور سرِ حادثہَ کربلا

Concerning Muslim Freedom, and the secret of the Tragedy of Kerbala

Toggle stanza 1
هر که پیمان با هوالموجود بست
1
هر که پیمان با هوالموجود بست
گردنش از بند هر معبود رست

جس نے حاضر و ناظر اور زندہ و قائم خدا سے عبودیت کا رشتہ استوار کر لیا اس کی گردن ہر معبود کی بندش سے آزاد ہو گئی ۔ (مراد یہ ہے کہ خدا سے رشتہ استوار کر لینے کے بعد انسان نے تمام معبودوں کو ٹھکرا دیا ہے) ۔

Whoever maketh compact with the One That is, hath been delivered from the yoke Of every idol.

2
مؤمن از عشق است و عشق از مؤمنست
عشق را ناممکن ما ممکن است

مومن کی ہستی عشق پر موقوف ہے، عشق کا وجود مومن پر موقوف ہے ۔ عشق ناممکن کو بھی ممکن بنا دیتا ہے ۔

Whoever maketh compact with the One That is, hath been delivered from the yoke Of every idol.

3
عقل سفاک است و او سفاک تر
پاک تر چالاک تر بیباک تر

عقل بڑی سنگدل اور خونریز ہے لیکن عشق اس سے بھی زیادہ خونریز ہے ۔ عشق اغراض سے پاک ہوتا ہے کبھی کسی مقصد کے لیے ناجائز تدبیریں گوارا نہیں کرتا ۔ راہ حق میں اس تیزی سے قدم اٹھاتا ہے کہ عقل کبھی وہ تیزی اختیار کر ہی نہیں سکتی ۔ سب سے آخر میں یہ کہ عشق ہر خوف اور ڈر سے کاملاً آزاد ہوتا ہے ۔

Reason is ruthless; Love is even more, Purer, and nimbler, and more unafraid.

4
عقل در پیچاک اسباب و علل
عشق چوگان باز میدان عمل

عقل اپنے مقصد کے لیے قدم اٹھانے سے پہلے اسباب اور وسائل پر غور کرتی ہے اور یہ سوچتی ہے کہ فلاں قدم اٹھانے کا نتیجہ کیا ہو گا ۔ اس کے برعکس عشق عمل کے میدان کا شہ سوار ہوتا ہے وہ ہمیشہ آگے بڑھتا ہے ، سرگرم ہوتا ہے کہ اسباب اور ساتھیوں کا کیا حال ہے ۔ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا ۔ وہ صرف یہ جانتا ہے کہ فلاں کام اگر حق ہے تو ضرور ہونا چاہئے اور اس کے لیے میدان میں اتر آتا ہے ۔

Lost in the maze of cause and of effect Is Reason; Love strikes boldly in the field Of Action.

5
عشق صید از زور بازو افکند
عقل مکار است و دامی میزند

عشق اپنے بازو کی قوت سے شکار کرتا ہے لیکن عقل فطرتاً مکار ہے اور وہ مکر و فریب کے جال پھیلاتی رہتی ہے ۔

Crafty Reason sets a snare; Love overthrows the prey with strong right arm.

6
عقل را سرمایه از بیم و شک است
عشق را عزم و یقین لاینفک است

عقل کا سارا سرمایہ خوف اور شک و شبہ ہے ۔ اس کے برعکس عشق سے عزم اور یقین جدا ہو ہی نہیں سکتے ۔

Reason is rich in fear and doubt; but Love Has firm resolve, faith indissoluble.

7
آن کند تعمیر تا ویران کند
این کند ویران که آبادان کند

عقل جو تعمیر کرتی ہے اس کا نتیجہ ویرانی ہوتا ہے ۔ لیکن عشق اس غرض سے ویران کرتا ہے کہ اسے مستقبل طور پر آباد کر دے ۔ عقل کی تعمیر میں تخریب کا پہلو ہوتا ہے جبکہ عشق کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے ۔

Reason constructs, to make a wilderness; Love lays wide waste, to build all up anew.

8
عقل چون باد است ارزان در جهان
عشق کمیاب و بهای او گران

عقل اس دنیا میں ہوا سے بھی زیادہ سستی ہے ۔ عشق بہت کمیاب ہے اور اسکی قیمت بہت زیادہ ہے ۔

Reason is cheap, and plentiful as air; Love is most scarce to find, and of great price.

9
عقل محکم از اساس چون و چند
عشق عریان از لباس چون و چند

عقل چون و چند کی بنیاد پر مستحکم ہوتی ہے ۔ عشق چون و چند کا روادار ہو ہی نہیں سکتا وہ اس لباس سے عاری ہے ۔

Reason stands firm upon phenomena, But Love is naked of material robes.

10
عقل می گوید که خود را پیش کن
عشق گوید امتحان خویش کن

عقل کہتی ہے کہ اپنے آپ کو آگے بڑھا یعنی دولت، عزت، حکومت اور شہرت حاصل کر ۔ عشق کہتا ہے کہ آگے بڑھانے کا کیا مطلب اپنے آپ کو آزمانا چاہیے ۔

Reason says, “Thrust thyself into the fore;” Love answers “Try thy heart, and prove thyself.”

11
عقل با غیر آشنا از اکتساب
عشق از فضل است و با خود در حساب

عقل کا سارا زور خودنمائی پر ہے جبکہ عشق اپنا محاسبہ خود کرتا ہے ۔ عقل کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ کسب سے حاصل کی جاتی ہے اور مشق سے بڑھ سکتی ہے ۔ دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اسے غیر سے آشنائی پیدا کر نے میں تامل نہیں ہوتا (بشرطیکہ کوئی فائدہ پہنچنے کی امید ہو ) ۔ اس کے برعکس عشق صرف خدا کے فضل پر موقوف ہے ۔ غیر سے اسے کوئی واسطہ نہیں ہوتا ۔ وہ ہروقت اپنے ہی حساب اور جانچ پڑتال میں مصروف رہتا ہے ۔

Reason by acquisition is informed Of other; Love is born of inward grace And makes account with self.

12
عقل گوید شاد شو آباد شو
عشق گوید بنده شو آزاد شو

عقل کہتی ہے کہ عیش و عشرت اور موج مستی میں کھو کر زندگی گزار ۔ جبکہ عشق کہتا ہے کہ اللہ کا فرمانبردار بندہ بن جا اور ہر غلامی سے آزاد ہو کر زندگی گزار ۔

Reason declares, “Be happy and be prosperous”; Love replies, “Become a servant, that thou mayest be free.”

13
عشق را آرام جان حریت است
ناقه اش را ساربان حریت است

عشق کے لیے حریت آرام، سکون اور راحت کا باعث ہے ۔ اس کے ناقے (اونٹنی) کی ساربا ن حریت ہے ۔

Freedom brings full contentment to Love’s soul, Freedom, the driver of Love’s riding-beast.

14
آن شنیدستی که هنگام نبرد
عشق با عقل هوس پرور چه کرد

تو نے سنا کہ لڑائی کے وقت عشق نے ہوس پرور عقل سے کیا سلوک کیا (لڑائی سے مراد جنگ کربلا ہے ۔ عشق کے علمدار حضرت امام حسین علیہ السلام ہیں اور عقل ہوس پرور یزید کو کہا گیا ہے )

Hast thou not heard what things in time of war Love wrought with lustful Reason?

15
آن امام عاشقان پور بتول
سرو آزادی ز بستان رسول

وہ عاشقوں کے امام اور پیشوا حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے فرزند ارجمند جنھیں رسول اللہ کے باغ میں سرو آزاد کی حیثیت حاصل تھی ۔

would speak Of that great leader of all men who love Truly the Lord, that upright cypress-tree Of the Apostle’s garden,

16
الله الله بای بسم الله پدر
معنی ذبح عظیم آمد پسر

ان کے والد ماجد حضرت علی علیہ السلام بسم اللہ کی ب تھے اور فرزند یعنی امام حسین قرآن مجید کی آیت ، وفدینہ بذبح عظیم کا مطلب و مفہوم بن گئے، ۔

Ali’s son, Whose father led the sacrificial feast That he might prove a mighty offering;

17
بهر آن شهزاده ی خیر الملل
دوش ختم المرسلین نعم الجمل

سب سے بہتر امت یعنی ملت اسلامیہ کے اس شہزادے کی شان یہ تھی کہ رسول خاتم کا دوش مبارک اس کے لیے اچھی سواری قرار پایا ۔

And for that prince of the best race of men The Last of the Apostles gave his back To ride upon, a camel passing fair.

18
سرخ رو عشق غیور از خون او
شوخی این مصرع از مضمون او

عشق غیور حضرت امام حسین ہی کے خون سے سرخرو ہوا ۔ انہیں کے مضمون سے اس مصرع میں شوخی پیدا ہوئی ۔ عشق کو غیور اس لیے کہا کہ وہ باطل کے مقابلے میں دبنا یا پیچھے ہٹنا گوارا ہی نہیں کر سکتا ۔

Crimsoned his blood the cheek of jealous Love (Which theme adorns my verse in beauty bold)

19
در میان امت ان کیوان جناب
همچو حرف قل هو الله در کتاب

امت کے درمیان ان کی حیثیت وہی تھی جو سورۃ اخلاص کو قرآن کے درمیان حاصل ہے ۔ یعنی جس طرح سورہ اخلاص کو قرآن مجید میں ایک خاص حیثیت حاصل ہے اسی طرح امام حسین کو ملت اسلامیہ میں ایک خاص حیثیت حاصل ہے ۔

Who is sublime in our community As Say, the Lord is God exalts the Book.

20
موسی و فرعون و شبیر و یزید
این دو قوت از حیات آید پدید

موسیٰ اور فرعون ، شبیر اور یزید یہ دو قوتیں ہیں جو زندگی سے ظاہر ہوئیں ۔ ان میں حضرت موسیٰ اور حضرت امام حسین حق کے علمدار ہیں ا ور فرعون اور یزید نے باطل کی پاسداری کی ۔ دونوں قوتیں ابتدا ہی سے چلی آ رہی ہیں ان کے درمیان کشمکش بھی ہوتی رہی ہے ۔

Moses and Pharaoh, Shabbir and Yazid – From Life spring these conflicting potencies;

21
زنده حق از قوت شبیری است
باطل آخر داغ حسرت میری است

تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ حق قوت شبیری سے زندہ ہے ۔ حضرت موسیٰ اور حضرت امام حسین جیسے بزرگ اس کی خدمت انجام دیتے ہیں ۔ باطل آخر حسرت کی موت کا داغ بن جاتا ہے ۔ (حق کا بول بالا قوت خیر سے ہوتا ہے جبکہ باطل قوتوں کا انجام ذلت و خواری ہے ۔ ) ۔

Truth lives in Shabbir’s strength; Untruth is that Fierce, final anguish of regretful death.

22
چون خلافت رشته از قرآن گسیخت
حریت را زهر اندر کام ریخت

جب خلافت نے قرآن مجید سے تعلق توڑ لیا تو حریت کے حلق میں زہر ڈال دیا گیا ۔

And when the Caliphate first snapped its thread From the Quran, in Freedom’s throat was poured A fatal poison

23
خاست آن سر جلوه ی خیرالامم
چون سحاب قبله باران در قدم

یہ حالت دیکھ کر سب سے بہتر امت کا وہ نمایاں تر جلوہ یوں اٹھا جیسے قبلے کی جانب سے گھنگھور گھٹا اٹھتی ہے اور اٹھتے ہی جل تھی ایک کر دیتی ہے ۔

like a rain-charged cloud The effulgence of the best of peoples rose Out of the West,

24
بر زمین کربلا بارید و رفت
لاله در ویرانه ها کارید و رفت

یہ گھنگھور گھٹا کربلا کی زمین پر برسی اور چھٹ گئی ۔ ویرانوں کو لالہ زار بنا دیا اور چل دی ۔

to spill on Kerbala, And in that soil, that desert was before, Sowed, as he died, a field of tulip-blood.

25
تا قیامت قطع استبداد کرد
موج خون او چمن ایجاد کرد

قیامت تک کے لیے ظلم و جور اور مطلق العنانی کی جڑ کاٹ کر رکھ دی ۔ امام حسین کی موج ِ خون نے حریت کا گلزار کھلا دیا ۔

There, till the Resurrection, tyranny Was evermore cut off; a garden fair Immortalizes where his lifeblood surged.

26
بهر حق در خاک و خون غلتیده است
پس بنای لااله گردیده است

امام حسین حق کی خاطر خاک و خون میں تڑپے ، اس وجہ سے کلمہ توحید لا الہ کی بنیاد بن گئے ۔ امام حسین نے یہ جنگ اس لیے لڑی کہ خلافت ان اصولوں کے مطابق قائم ہو جو قرآن مجید نے پیش کئے ۔

For Truth alone his blood dripped to the dust, Wherefore he has become the edifice Of faith in God’s pure Unity.

27
مدعایش سلطنت بودی اگر
خود نکردی با چنین سامان سفر

ان کا مقصد یہ نہیں تھا کہ خود سلطنت حاصل کریں ۔ اگر وہ سلطنت کے خواہاں ہوتے تو اتنے تھوڑے ساتھیوں اور معمولی سامان کے ساتھ کیوں مکہ معظمہ سے کوفہ کی طرف جاتے ۔

Had his ambition been for earthly rule, Not so provisioned would he have set forth On his last journey,

28
دشمنان چون ریگ صحرا لاتعد
دوستان او به یزدان هم عدد

ان کے دشمن صحرا کی ریت کے ذروں کی طرح بے شمار تھے ۔ دوستوں اور رفیقوں کی تعداد اتنی ہی تھی جتنی یزدان کے اعداد کی ہے ۔ یزدان کے عدد بہ قاعدہ ابجد بہتر ہوتے ہیں ۔ امام حسین کے تمام ساتھی بھی کربلا میں اتنے ہی تھے ۔

having enemies Innumerable as the desert sands, Equal his friends in number to God’s Name.

29
سر ابراهیم و اسمعیل بود
یعنی آن اجمال را تفصیل بود

امام حسین حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی قربانی کے آئینہ دار تھے ۔ یعنی وہ قربانی تو اجمال کی حیثیت رکھتی تھی اس کی تفصیل امام حسین نے پیش کر دی ۔

The mystery that was epitomized In Abraham and Ishmael through his life And death stood forth at last in full revealed.

30
عزم او چون کوهساران استوار
پایدار و تند سیر و کامگار

ان کا عزم پہاڑوں کی طرح پختہ ، پائیدار اور تیز اور کامیاب تھا ۔ کیوں اس لیے کہ تلوار صرف دین کی عزت کے واسطے بے نیام ہو سکتی ہے ۔

Firm as a mountain-chain was his resolve, Impetuous, unwavering to its goal

31
تیغ بهر عزت دین است و بس
مقصد او حفظ آئین است و بس

ان کی غرض یہ تھی کہ امام نے صرف دین کے لیے تلوار اٹھائی اور اس میں ان کی ذاتی غرض کوئی نہ تھی ۔

The Sword is for the glory of the Faith And is unsheathed but to defend the Law.

32
ماسوی الله را مسلمان بنده نیست
پیش فرعونی سرش افکنده نیست

یاد رہے کہ مسلمان خدا کے سوا کسی کا غلام نہیں ہو سکتا اس کا سر کسی فرعون کے آگے نہیں جھک سکتا ۔

The Muslim, servant unto God alone Before no Pharaoh casteth down his head.

33
خون او تفسیر این اسرار کرد
ملت خوابیده را بیدار کرد

امام حسین کے خون نے دین حقہ اسلام کا یہ راز کھول کر بیان کر دیا اور سوئی ہوئی ملت کو جگا دیا ۔ یعنی ملت اس حق سے غافل تھی امام حسین نے اس کی غفلت دور کر دی ۔

His blood interpreted these mysteries, And waked our slumbering community.

34
تیغ لا چون از میان بیرون کشید
از رگ ارباب باطل خون کشید

انھوں نے لا کی تلوار میان سے باہر کھینچی تو صاحبان باطل کی رگوں سے خون نکال دیا ۔

He drew the sword There is none other god And shed the blood of them that served the lie;

35
نقش الا الله بر صحرا نوشت
سطر عنوان نجات ما نوشت

انھوں نے لا الہ یعنی توحید کا نقش صحرا کے سینے پر بٹھا دیا ۔ یہ نقش ہماری نجات کے عنوان کی سطر لکھ دی ۔

Inscribing in the wilderness save God He wrote for all to read the exordium Of our salvation.

36
رمز قرآن از حسین آموختیم
ز آتش او شعله ها اندوختیم

ہم نے قرآن مجید کی رمز امام حسین سے سیکھی ہے اور انہیں کی روشن کی ہوئی آگ سے شعلے جمع کرتے رہے ہیں ۔

From Husain we learned The riddle of the Book, and at his flame Kindled our torches.

37
شوکت شام و فر بغداد رفت
سطوت غرناطه هم از یاد رفت

شام کی شوکت مٹ گئی ۔ بغداد کا جاہ و جلال رخصت ہو گیا ۔ غرناطہ کی شا ن و عظمت یاد بھی نہ رہی ۔

Vanished now from ken Damascus might, the splendour of Baghdad, Granada’s majesty, all lost to mind;

38
تار ما از زخمه اش لرزان هنوز
تازه از تکبیر او ایمان هنوز

اس کے مقابلے میں امام حسین کی مضراب ہمارے ساز کے تار اب تک بدستور چھیڑ رہی ہے ۔ اور اس سے نغمے نکل رہے ہیں ۔ اب تک ان کے نعرہ تکبیر سے ہمارے ایمان تازہ ہوتے ہیں ۔

Yet still the strings he smote within our soul Vibrate, still ever new our faith abides In his Allahu Akbar

39
ای صبا ای پیک دور افتادگان
اشک ما بر خاک پاک او رسان

اے صبا اے دور افتادہ لوگوں کی قاصد، ہمارے آنسووَں کا ہدیہ امام حسین کے حرم مقدس پر پہنچا دے ۔

Gentle breeze, Thou messenger of them that are afar, Bear these my tears to lave his holy dust.

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور