رباعی شمارهٔ 101

ہمارا یہ جہان جو صرف نقش ناتمام ہے

Our world, merely a fleeting notion

Toggle stanza 1
جهان ما که جز انگاره ئی نیست
1
جهان ما که جز انگاره ئی نیست
اسیر انقلاب صبح و شام است

ہمارا یہ جہان جو صرف نقش ناتمام ہے —

جو صبح وشام کی تبدیلی (زمان) کا اسیر ہے۔

Our world, merely a fleeting notion —

Bound to the cycles of night and day's motion.

2
ز سوهان قضا هموار گردد
هنوز این پیکر گل ناتمام است

قضا کی سان اسے ہموار کرتی ہے —

ورنہ ابھی تک یہ مٹی کا پیکر (جہان) نامکمل ہے۔

Smoothed by fate's relentless abrasion —

Yet this clay-formed world still lacks completion.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور