بخش 21 - خطاب به انگلستان

انگلستان سے خطاب

A Word to England

Toggle stanza 1
مشرقی باده چشیده است ز مینای فرنگ
1

مشرقی باده چشیده است ز مینای فرنگ

عجبی نیست اگر توبهٔ دیرینه شکست

مشرق کے باسی نے مغرب کی صراحی سے شراب چکھی ہے کوئی عجب نہیں اگر اس نے اپنی پرانی توبہ توڑ دی ۔

An Easterner tasted once the wine in Europe’s glass; no wonder if he broke old vows in reckless glee.

2

فکر نوزادهٔ او شیوهٔ تدبیر آموخت

جوش زد خون به رگ بندهٔ تقدیر پرست

اس کی نئی فکر نے تدبیر کا چلن سیکھا (تدبیر کا انداز سکھایا) تقدیر کے بندے کی رگوں میں لہو نے جو ش مارا (ہندیوں میں حصول آزادی کا جذبہ پیدا ہو گیا) ۔

The blood came surging up in the veins of his new-born thought: Predestination’s bond-slave he learned that man is free.

3

ساقیا تنگ دل از شورش مستان نشوی

خود تو انصاف بده اینهمه هنگامه که بست؟

اے ساقی! اب تو مستوں کے شور سے ناراض نہ ہو تو آپ ہی انصاف کر کہ سارا ہنگامہ کس نے پیدا کیا (حقوق طلبی کے یہ طریقے تمہارے ہی سکھائے ہوئے ہیں ) ۔

Let not thy soul be vexed with the drunkards’ noise and rout! O saki, tell me fairly, who was’t that broached this jar?

4

«بوی گل خود به چمن راه نما شد ز نخست

ورنه بلبل چه خبر داشت که گلزاری هست»

پھول کی خوشبو نے پہلے آپ ہی چمن کی راہ دکھائی (راہنمائی کی) ورنہ بلبل کو کیا خبر تھی کہ کوئی گلزار بھی ہے (انگریزوں نے خود ہندوستانیوں کے اندر سیاسی بیداری پیدا کی ورنہ ان کے دماغ میں حصول آزادی کا تصور پیدا نہ ہوا تھا)

The scent of the rose showed first the way into the garden; else, how should the nightingale have known that roses are?

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور