رباعی شمارهٔ 142

میں نے اپنی جانِ بے قرار سے آگ کا منہ کھول دیا ہے

From my restless soul, I’ve unleashed a blaze

Toggle stanza 1
ز جان بیقرار آتش گشادم
1
ز جان بیقرار آتش گشادم
دلی در سینهٔ مشرق نهادم

میں نے اپنی جانِ بے قرار سے آگ کا منہ کھول دیا ہے —

میں نے مشرق کے سینے میں نیا دل رکھ دیا ہے۔

From my restless soul, I’ve unleashed a blaze —

I’ve placed a new heart in the East’s embrace.

2
گل او شعله زار از نالهٔ من
چو برق اندر نهاد او فتادم

سرزمینِ مشرق کی خاک، میرے نالے سے شعلہ زار بن گئی ہے —

میں اس کے ضمیر پر بجلی کی مانند گرا ہوں۔

The soil of the East, aflame with my lament's spark —

Upon its conscience, I’ve struck like a lightning arc.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور