رباعی شمارهٔ 149

تو فرنگی خداؤں سے تو بھاگتا ہے

You flee from the Western masters in dismay

Toggle stanza 1
رمیدی از خداوندان افرنگ
1
رمیدی از خداوندان افرنگ
ولی بر گور و گنبد سجده پاشی

تو فرنگی خداؤں سے تو بھاگتا ہے —

لیکن قبروں اور مزاروں پر سجدے کرتا ہے۔

You flee from the Western masters in dismay —

Yet at tombs and shrines, in prostration you stay.

2
به لالائی چنان عادت گرفتی
ز سنگ راه مولائی تراشی

تو نے ایسی ہندوانہ عادت اختیار کر لی ہے —

کہ سنگ راہ سے اپنا خدا تراشتا ہے۔

You've adopted such Hinduistic ways —

Carving your gods from stones that lay.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور