اسرار خودی

علامہ اقبال

اسرار خودی

رومی اور تلاش انسان

اردوEn
3 اشعار

بخش 1تمهید

تمہید

اردوEn
94 اشعار

بخش 2در بیان اینکه اصل نظام عالم از خودی است و تسلسل حیات تعینات وجود بر استحکام خودی انحصاردارد

اس بیان میں کہ دنیا کے نظام کی بنیاد خودی پر ہے اور زندگی کی مختلف شکلوں کا مدار اور ان کی ترقی خودی کے مضبوط ہونے پر موقوف ہے

اردوEn
40 اشعار

بخش 3دربیان اینکه حیات خودی از تخلیق و تولید مقاصد است

اس کے بیان میں کہ خودی کی زندگی کے مقاصد پیدا کرنا اور وجود میں لانا ہے

اردوEn
28 اشعار

بخش 4در بیان اینکه خودی از عشق و محبت استحکام می پذیرد

اس بیان میں کہ خودی عشق و محبت سے مستحکم ہوتی ہے۔

اردوEn
56 اشعار

بخش 5در بیان اینکه خودی از سؤال ضعیف می‌گردد

اس بیان میں کہ سوال کرنے سے خودی کمزور ہو جاتی ہے

اردوEn
24 اشعار

بخش 6در بیان اینکه چون خودی از عشق و محبت محکم میگردد ، قوای ظاهره و مخفیه نظام عالم را مسخر می سازد

اس بیان میں کہ جب خودی عشق اور محبت سے مضبوط ہو جاتی ہے تو وہ نظام کائنات کی ظاہری اور خفیہ قوتوں کو اپنے تصرف میں لے کر مطیع کر لیتی ہے

اردوEn
27 اشعار

بخش 7حکایت درین معنی که مسئلهٔ نفی خودی از مخترعات اقوام مغلوبهٔ بنی نوع انسان است که به این طریق مخفی اخلاق اقوام غالبه را ضعیف میسازند

اس موضوع سے متعلق کہ خودی کی نفی کا مسئلہ بنی نوع انسان کے مغلوب قوموں کی اختراعات (ایجادات) میں سے ہے تا کہ وہ اس خفیہ طریقے سے غالب قوموں کے اخلاق کو کمزور کر دیں ۔

اردوEn
47 اشعار

بخش 8در معنی اینکه افلاطون یونانی که تصوف و ادبیات اقوام اسلامیه از افکار او اثر عظیم پذیرفته بر مسلک گوسفندی رفته است و از تخیلات او احتراز واجب است

اس بیان میں کہ یونان کا فلسفی افلاطون جس کے افکار سے مسلم اقوام کے تصوف اور ادب نے بہت زیادہ اثر قبول کیا مسلک گوسفندی ہی پر چلا ہے، اس کے افکار و خیالات سے بچا رہنا ضروری ہے

اردوEn
21 اشعار

بخش 9در حقیقت شعر و اصلاح ادبیات اسلامیه

شعر کی حقیقت اور اسلامی ادبیات کی اصلاح کے بارے میں

اردوEn
70 اشعار

بخش 10در بیان اینکه تربیت خودی را سه مراحل است مرحلهٔ اول را اطاعت و مرحلهٔ دوم را ضبط نفس، و مرحله سوم را نیابت الهی نامیده اند: «مرحلهٔ اول اطاعت»

مرحلہ سوم: نیابت الٰہی

اردوEn
76 اشعار

بخش 11در شرح اسرار اسمای علی مرتضی

حضرت علی المرتضیٰ کے اسماء کے بھیدوں کی تشریح

اردوEn
59 اشعار

بخش 12حکایت نوجوانی از مرو که پیش حضرت سید مخدوم علی هجویری رحمة الله علیه آمده از ستم اعدا فریاد کرد

مرو کے ایک نوجوان کی داستان جو مخدوم حضرت علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آیا اور دشمنوں کے ظلم و ستم کے خلاف فریاد کی

اردوEn
31 اشعار

بخش 13حکایت طایری که از تشنگی بیتاب بود

اس پرندے کی کہانی جسے پیاس نے بے قرار کر رکھا تھا

اردوEn
23 اشعار

بخش 14حکایت الماس و زغال

الماس اور کوئلے کی حکایت

اردوEn
20 اشعار

بخش 15حکایت شیخ و برهمن و مکالمه گنگ و هماله در معنی اینکه تسلسل حیات ملیه از محکم گرفتن روایات مخصوصه ملیه می باشد

شیخ اور برہمن کی داستان اور دریائے گنگاو ہمالیہ کے مابین مکالمہ، اس حقیقت سے متعلق کی ملی زندگی کا تسلسل ملت کی مخصوص ملی روایات کے ساتھ مضبوطی سے وابستہ رہنے پر موقوف ہے

اردوEn
44 اشعار

بخش 16در بیان اینکه مقصد حیات مسلم ، اعلای کلمة الله است و جهاد ، اگر محرک آن جوع الارض باشد در مذهب اسلام حرام است

اس موضوع کے بارے میں کہ مسلمان کی زندگی کا مقصد کلمتہ اللہ کا بلند کرنا ہے اور ایسا جہاد جو تسخیر ممالک کا باعث بنے، اسلام کی رو سے حرام ہے

اردوEn
34 اشعار

بخش 17اندرز میر نجات نقشبند المعروف به بابای صحرائی که برای مسلمانان هندوستان رقم فرموده است

باباے صحرائی کے لقب سے مشہور میر نجات نقشبندی کی نصیحت جو انھوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے تحریر فرمائی ہے

اردوEn
72 اشعار

بخش 18الوقت سیف

وقت تلوار ہے

اردوEn
61 اشعار

بخش 19دعا

دعا

اردوEn
46 اشعار