اسرار خودی
اسرار خودی
رومی اور تلاش انسان
بخش 1تمهید
تمہید
بخش 2در بیان اینکه اصل نظام عالم از خودی است و تسلسل حیات تعینات وجود بر استحکام خودی انحصاردارد
اس بیان میں کہ دنیا کے نظام کی بنیاد خودی پر ہے اور زندگی کی مختلف شکلوں کا مدار اور ان کی ترقی خودی کے مضبوط ہونے پر موقوف ہے
بخش 3دربیان اینکه حیات خودی از تخلیق و تولید مقاصد است
اس کے بیان میں کہ خودی کی زندگی کے مقاصد پیدا کرنا اور وجود میں لانا ہے
بخش 4در بیان اینکه خودی از عشق و محبت استحکام می پذیرد
اس بیان میں کہ خودی عشق و محبت سے مستحکم ہوتی ہے۔
بخش 5در بیان اینکه خودی از سؤال ضعیف میگردد
اس بیان میں کہ سوال کرنے سے خودی کمزور ہو جاتی ہے
بخش 6در بیان اینکه چون خودی از عشق و محبت محکم میگردد ، قوای ظاهره و مخفیه نظام عالم را مسخر می سازد
اس بیان میں کہ جب خودی عشق اور محبت سے مضبوط ہو جاتی ہے تو وہ نظام کائنات کی ظاہری اور خفیہ قوتوں کو اپنے تصرف میں لے کر مطیع کر لیتی ہے
بخش 7حکایت درین معنی که مسئلهٔ نفی خودی از مخترعات اقوام مغلوبهٔ بنی نوع انسان است که به این طریق مخفی اخلاق اقوام غالبه را ضعیف میسازند
اس موضوع سے متعلق کہ خودی کی نفی کا مسئلہ بنی نوع انسان کے مغلوب قوموں کی اختراعات (ایجادات) میں سے ہے تا کہ وہ اس خفیہ طریقے سے غالب قوموں کے اخلاق کو کمزور کر دیں ۔
بخش 8در معنی اینکه افلاطون یونانی که تصوف و ادبیات اقوام اسلامیه از افکار او اثر عظیم پذیرفته بر مسلک گوسفندی رفته است و از تخیلات او احتراز واجب است
اس بیان میں کہ یونان کا فلسفی افلاطون جس کے افکار سے مسلم اقوام کے تصوف اور ادب نے بہت زیادہ اثر قبول کیا مسلک گوسفندی ہی پر چلا ہے، اس کے افکار و خیالات سے بچا رہنا ضروری ہے
بخش 9در حقیقت شعر و اصلاح ادبیات اسلامیه
شعر کی حقیقت اور اسلامی ادبیات کی اصلاح کے بارے میں
بخش 10در بیان اینکه تربیت خودی را سه مراحل است مرحلهٔ اول را اطاعت و مرحلهٔ دوم را ضبط نفس، و مرحله سوم را نیابت الهی نامیده اند: «مرحلهٔ اول اطاعت»
مرحلہ سوم: نیابت الٰہی
بخش 11در شرح اسرار اسمای علی مرتضی
حضرت علی المرتضیٰ کے اسماء کے بھیدوں کی تشریح
بخش 12حکایت نوجوانی از مرو که پیش حضرت سید مخدوم علی هجویری رحمة الله علیه آمده از ستم اعدا فریاد کرد
مرو کے ایک نوجوان کی داستان جو مخدوم حضرت علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آیا اور دشمنوں کے ظلم و ستم کے خلاف فریاد کی
بخش 13حکایت طایری که از تشنگی بیتاب بود
اس پرندے کی کہانی جسے پیاس نے بے قرار کر رکھا تھا
بخش 14حکایت الماس و زغال
الماس اور کوئلے کی حکایت
بخش 15حکایت شیخ و برهمن و مکالمه گنگ و هماله در معنی اینکه تسلسل حیات ملیه از محکم گرفتن روایات مخصوصه ملیه می باشد
شیخ اور برہمن کی داستان اور دریائے گنگاو ہمالیہ کے مابین مکالمہ، اس حقیقت سے متعلق کی ملی زندگی کا تسلسل ملت کی مخصوص ملی روایات کے ساتھ مضبوطی سے وابستہ رہنے پر موقوف ہے
بخش 16در بیان اینکه مقصد حیات مسلم ، اعلای کلمة الله است و جهاد ، اگر محرک آن جوع الارض باشد در مذهب اسلام حرام است
اس موضوع کے بارے میں کہ مسلمان کی زندگی کا مقصد کلمتہ اللہ کا بلند کرنا ہے اور ایسا جہاد جو تسخیر ممالک کا باعث بنے، اسلام کی رو سے حرام ہے
بخش 17اندرز میر نجات نقشبند المعروف به بابای صحرائی که برای مسلمانان هندوستان رقم فرموده است
باباے صحرائی کے لقب سے مشہور میر نجات نقشبندی کی نصیحت جو انھوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے تحریر فرمائی ہے
بخش 18الوقت سیف
وقت تلوار ہے
بخش 19دعا
دعا
ترجمہ
اردو مترجمین
ترجمہ
انگریزی مترجمین
صنف
اصناف
وزن

