تراجم
میاں عبدالرشید کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب اسرار خودی
یہ صفحہ صرف میاں عبدالرشید کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
تراجم والی نظمیں
اسرار خودی
بخش 1تمهید
بخش 2در بیان اینکه اصل نظام عالم از خودی است و تسلسل حیات تعینات وجود بر استحکام خودی انحصاردارد
اس بیان میں کہ نظام کائنات کی بنیاد خودی ہے اور حیات کے مختلف پیکروں کی تعیین اور ان کا ارتقا ء خودی کے استحکام پر منحصر ہے۔
بخش 3دربیان اینکه حیات خودی از تخلیق و تولید مقاصد است
اس بیان میں کہ خودی کی زندگی مقاصد کی تخلیق و تولید سے ہے۔
بخش 4در بیان اینکه خودی از عشق و محبت استحکام می پذیرد
اس بیان میں کہ خودی عشق و محبت سے مستحکم ہوتی ہے۔
بخش 5در بیان اینکه خودی از سؤال ضعیف میگردد
اس بیان میں کہ سوال کرنے سے خودی میں کمزوری واقع ہوتی ہے۔
بخش 6در بیان اینکه چون خودی از عشق و محبت محکم میگردد ، قوای ظاهره و مخفیه نظام عالم را مسخر می سازد
اس بیان میں کہ جب خودی عشق و محبت سے مستحکم ہو جاتی ہے تو وہ نظام عالم کی ظاہری اور مخفی قوّتوں کو مسخر کر لیتی ہے۔
بخش 7حکایت درین معنی که مسئلهٔ نفی خودی از مخترعات اقوام مغلوبهٔ بنی نوع انسان است که به این طریق مخفی اخلاق اقوام غالبه را ضعیف میسازند
اس مطلب کی وضاحت کے لیے حکایت کہ نفیء خودی کا مسلہ اقوام مغلوبہ کی اختراع ہے تاکہ وہ مخفی طریق سے اقوام غالبہ کے اخلاق کو کمزور کريں۔
بخش 8در معنی اینکه افلاطون یونانی که تصوف و ادبیات اقوام اسلامیه از افکار او اثر عظیم پذیرفته بر مسلک گوسفندی رفته است و از تخیلات او احتراز واجب است
اس مطلب کی وضاحت کے لیے کہ افلاطون جس کے افکار سے تصوّف اور مسلم اقوام کے ادب نے بہت اثر لیا ہے وہ مسلک گوسفندی کا پیرو تھا اس لیے اس کے تخیلات سے بچنا چاہیے۔
بخش 9در حقیقت شعر و اصلاح ادبیات اسلامیه
شعر کی حقیقت اور اسلامی ادب کی اصلاح کے بیان میں۔
بخش 10در بیان اینکه تربیت خودی را سه مراحل است مرحلهٔ اول را اطاعت و مرحلهٔ دوم را ضبط نفس، و مرحله سوم را نیابت الهی نامیده اند: «مرحلهٔ اول اطاعت»
اس مطلب کے بیان میں کہ خودی کی تربیت کے تین مرحلے ہیں؛ پہلا مرحلہ اطاعت ، دوسرا ضبط نفس اور تیسرے کو نیابت الہی کہا جاتا ہے۔ "مرحلۂ اول اطاعت"
بخش 11در شرح اسرار اسمای علی مرتضی
حضرت علی مرتضیؓ کے اسماء کے اسرار کی شرح۔
بخش 12حکایت نوجوانی از مرو که پیش حضرت سید مخدوم علی هجویری رحمة الله علیه آمده از ستم اعدا فریاد کرد
مرو کے ایک نوجوان کی حکایت جس نے سید علی ہحویریؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے دشمنوں کے ظلم کی فریاد کی۔
بخش 13حکایت طایری که از تشنگی بیتاب بود
پرندے کی کہانی جو پیاس سے بیتاب تھا۔
بخش 14حکایت الماس و زغال
الماس اور کوئلے کی حکایت ۔
بخش 15حکایت شیخ و برهمن و مکالمه گنگ و هماله در معنی اینکه تسلسل حیات ملیه از محکم گرفتن روایات مخصوصه ملیه می باشد
شیخ و برہمن کی حکایت اور گنگا و ہمالہ کا مکالہ اس مطلب کی وضاحت کے لیے کہ ملت کی زندگی کے تسلسل کا دار و مدار اپنی مخصوص روایات سے جمے رہنے میں ہے۔
بخش 16در بیان اینکه مقصد حیات مسلم ، اعلای کلمة الله است و جهاد ، اگر محرک آن جوع الارض باشد در مذهب اسلام حرام است
اس مطلب کی وضاحت کس لیے کہ مسلمان کی زندگی کا مقصد اعلائے کلمتہ اللہ ہے اور اگر جہاد کا محرک ملک فتح کرنا ہو تو ایسی جنگ مذہب میں حرام ہے۔
بخش 17اندرز میر نجات نقشبند المعروف به بابای صحرائی که برای مسلمانان هندوستان رقم فرموده است
میر نجات نقشبندی المعروف بہ بابائے صحرائی کی نصیحت جو انہوں نے مسلمانان ہند کے لیے رقم فرمائی۔
بخش 18الوقت سیف
وقت تلوار ہے۔

