تراجم
یہ صفحہ صرف میاں عبدالرشید کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
میاں عبدالرشید کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب اسرار خودی
اس بیان میں کہ نظام کائنات کی بنیاد خودی ہے اور حیات کے مختلف پیکروں کی تعیین اور ان کا ارتقا ء خودی کے استحکام پر منحصر ہے۔
اس بیان میں کہ خودی کی زندگی مقاصد کی تخلیق و تولید سے ہے۔
اس بیان میں کہ خودی عشق و محبت سے مستحکم ہوتی ہے۔
اس بیان میں کہ سوال کرنے سے خودی میں کمزوری واقع ہوتی ہے۔
اس بیان میں کہ جب خودی عشق و محبت سے مستحکم ہو جاتی ہے تو وہ نظام عالم کی ظاہری اور مخفی قوّتوں کو مسخر کر لیتی ہے۔
اس مطلب کی وضاحت کے لیے حکایت کہ نفیء خودی کا مسلہ اقوام مغلوبہ کی اختراع ہے تاکہ وہ مخفی طریق سے اقوام غالبہ کے اخلاق کو کمزور کريں۔
اس مطلب کی وضاحت کے لیے کہ افلاطون جس کے افکار سے تصوّف اور مسلم اقوام کے ادب نے بہت اثر لیا ہے وہ مسلک گوسفندی کا پیرو تھا اس لیے اس کے تخیلات سے بچنا چاہیے۔
شعر کی حقیقت اور اسلامی ادب کی اصلاح کے بیان میں۔
اس مطلب کے بیان میں کہ خودی کی تربیت کے تین مرحلے ہیں؛ پہلا مرحلہ اطاعت ، دوسرا ضبط نفس اور تیسرے کو نیابت الہی کہا جاتا ہے۔ "مرحلۂ اول اطاعت"
حضرت علی مرتضیؓ کے اسماء کے اسرار کی شرح۔
مرو کے ایک نوجوان کی حکایت جس نے سید علی ہحویریؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے دشمنوں کے ظلم کی فریاد کی۔
پرندے کی کہانی جو پیاس سے بیتاب تھا۔
الماس اور کوئلے کی حکایت ۔
شیخ و برہمن کی حکایت اور گنگا و ہمالہ کا مکالہ اس مطلب کی وضاحت کے لیے کہ ملت کی زندگی کے تسلسل کا دار و مدار اپنی مخصوص روایات سے جمے رہنے میں ہے۔
اس مطلب کی وضاحت کس لیے کہ مسلمان کی زندگی کا مقصد اعلائے کلمتہ اللہ ہے اور اگر جہاد کا محرک ملک فتح کرنا ہو تو ایسی جنگ مذہب میں حرام ہے۔
میر نجات نقشبندی المعروف بہ بابائے صحرائی کی نصیحت جو انہوں نے مسلمانان ہند کے لیے رقم فرمائی۔
وقت تلوار ہے۔