اسرار خودی

رومی اور تلاش انسان

Secrets of the Self

Toggle stanza 1
دی شیخ با چراغ همی‌گشت گرد شهر
1

دی شیخ با چراغ همی‌گشت گرد شهر

کز دام و دد ملولم و انسانم آرزوست

کل شیخ چراغ لیے شہر میں میں گھوم رہا تھا کہ میں جانوروں حیوانوں اور درندوں سے تنگ ہو گیا ہوں ۔ مجھے کسی انسان کی آرزو یا تلاش ہے ۔

But yester-eve a lamp in hand The Shaykh did all the city span, Sick of mere ghosts he sought a man, But could find none in all the land.

2

زاین همرهان سست‌عناصر دلم گرفت

شیر خدا و رستم دستانم آرزوست

یعنی جو آدمی ہر جگہ چلتے پھرتے نظر آ رہے ہیں ان کی حقیقت چوپایوں اور درندوں کی سی ہے ۔ ان سست الوجود اور نکمے ہمراہیوں سے تو میرا دل بیزار ہو گیا ہے ۔ مجھے شیرِ خدا اور رستم دستاں (جیسے شجاع اور بہادر انسان) کی تلاش ہے ۔

“I Rustam or a Hyder seek I’m sick of snails, am sick,” he said,

3

گفتم که یافت می‌نشود جسته‌ایم ما

گفت آنچه یافت می‌نشود آنم آرزوست

میں نے کہا وہ تو مل نہیں رہا جسے آپ تلاش کر چکے ہیں ۔ جواب میں شیخ نے کہا کہ وہ جو مل نہیں رہا اسی کی تو مجھے تلاش و آرزو ہے ۔گویا اسرار خودی کا مدعا بھی اس کے سوا کچھ نہیں کہ شیر خدا اور رستم دستاں جیسے انسان پیدا کرے جواب بازار زندگی میں کہیں نظر نہیں آتے ۔ یہ کتاب اس لیے لکھی کہ اس کی تعلیمات سے انسان حقیقی معنی میں انسان بن جائے ۔ سست عناصر ہمراہی ایسے معاصرین ہیں جو جہدوعمل سے عاری ہیں ۔ شیر خدا اور رستم دستاں سے مراد ایسا مر دکامل ہے جو انسانی معاشرے سے ظلم و ستم اور فساد ختم کر کے اسے ایک زبردست انقلاب سے آشنا کر دے تاکہ انسانی معاشرے میں حق کا بول بالا ہو ۔

“There’s none,” said I. He shook his head, “There’s none like them, but still I seek.”

رومی

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور