صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 186

غزل شمارهٔ 186

شاعر: سنایی

وزن: مستفعلن مستفعلن مستفعلن مستفعلن (رجز مثمن سالم)

قافیہ: س

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

چون تو نمودی جمال عشق بتان شد هوس

رو که ازین دلبران کار تو داری و بس

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 185

اگلی نظم

ای من غلام روی تو تا در تنم باشد نفس

درمان من در دست توست آخر مرا فریاد رس

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 187

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

بوی بهار آمد بنال ای بلبلِ شیرین‌نفس

ور پایبندی همچو من، فریاد می‌خوان از قفس

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 317

ای من غلام روی تو تا در تنم باشد نفس

درمان من در دست توست آخر مرا فریاد رس

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 187

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00