صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 120

غزل شمارهٔ 120

شاعر: سنایی

وزن: مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب)

قافیہ: ارنبایدشد

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

در مهر ماه زهدم و دینم خراب شد

ایمان و کفر من همه رود و شراب شد

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 119

اگلی نظم

دل به تحفه هر که او در منزل جانان کشد

از وجود نیستی باید که خط بر جان کشد

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 121

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00